ArticlesShowbiz

ایلن ڈیلن : تحریر: فلک زاہد.لاہور

تحریر: فلک زاہد...لاہور

ایلن ڈیلن جب بھی یہ نام ہماری نظروں سے گزرتا ہے تو ہمارے ذہنوں کے نہاں خانوں میں ایک خوبصورت چہرہ پوری آب و تاب کے ساتھ چمکنے لگتا ہے جسکی خوبصورتی ایک زمانے میں ناقابلِ شکست تھی.مرد ہو یا عورت کوئ بھی اس حسین چہرے سے نظریں نہ ہٹا پاتا تھا.ایلن فیبیوُن مورس مارسل ڈیلن 8 نومبر 1935 کو پیرس کے مضافاتی قصبے میں والدہ ایدتھ اور والد فیبیوُن ڈیلن کے گھر پیدا ہوےُ .محض چار برس کی عمر میں انکے والدین کے بیچ طلاق ہوگئ اور انہیں رضائ ماں باپ کے پاس رہنے کیلےُ بیجھ دیا گیا انکی وفات کے بعد وہ واپس اپنے والدین کے پاس آگےُ مگر کبھی اپنے والد کے ساتھ رہتے تو کبھی والدہ کے ساتھ کیونکہ وہ دونوں شادی کر چکے تھے جس وجہ سے انکے دو سوتیلے بھائ اور دو سوتیلی بہنیں بھی ہیں…انہوں نے کافی سکول جواین کےُ مگر کیتھولک بورڈنگ سکول وہ پہلا سکول تھا جہاں سے انہیں انکی سرکشی طبیعت کے باعث خارج کر دیا گیا اساتذہ نے انکی ذہنی اور جسمانی صحت کو دیکھتے ہوےُ انہیں پادری بننے کی جانب راغب کرنے کی کوشش کی مگر انہیں اس سے کوئ دلچسپی نہیں تھی چودہ سال کی عمر میں انہوں نے سکول کو خیر آباد کہ دیا اور کافی لمبے عرصے تک اپنے سوتیلے باپ کی قصائ کی دکان پر کام کرتے رہے تین سالوں بعد وہ فرینچ نیوی میں بھرتی ہوگےُ جہاں انہوں نے پہلی مرتبہ انڈونیشین جنگ میں سپاہی کی خدمات انجام دیں نیوی میں چار سال کی ملازمت پر انہیں نظم وضبط کی خلاف ورزی پر گیارہ ماہ کی قید بھی ہوئ رسواکن طور پر فوج سے نکالے جانے کے بعد 1956 میں وہ واپس فرانس چلے آےُ انکی جیب میں بہت تھوڑے پیسے تھے انہوں نے یہ وقت چھوٹی موٹی ملازمتیں کرتے ہوےُ گزارہ وہ دربان بھی ریے چوکیدار بھی بنے قلعی بھی بنے اسکے ساتھ ہی انہوں نے ویٹر کے طور پر بھی کام کیا اور سیکٹری کی خدمات بھی سر انجام دیں اسی دوران انکی دوستی اداکارہ بریجڈ اوبر سے ہوگئ جو انہیں اپنے ساتھ کانز فلم فیسٹیول لے گیئں جہاں انکے فلمی سفر کا آغاز ہوا..کانز میں انہیں ایک ٹیلنٹ اسکاوُٹ نے دیکھا جس نے انکا سکرین ٹیسٹ لینے کے بعد انہیں انگریزی فلموں میں کام کرنے کی پیشکش کی جو انہوں نے قبول کر لی اور وہ انگریزی سیکھنے واپس پیرس چلے آےُ مگر وہاں انکی ملاقات ایک فرانسی ڈاریکٹر سے ہوگئ جنہوں نے انہیں فرانس میں ہی رہ کر اپنا فلمی کریرُ بنانے کی ہدایت کی اور اپنا معاہدہ انگریزی فلموں سے ختم کرنے کو کہا چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور 1957 میں اسی ڈاریکٹر کی ہدایت میں بنی فلم میں انہیں پہلی مرتبہ ڈیبیو کرنے کا موقع مل گیا. اس ڈاریکٹر نے انہیں اپنی دوسری فلم میں بھی کاسٹ کیا مگر انہیں اپنا پہلا مرکزی کردار اداکارہ رومی شنائڈر کے ساتھ فلم “کرسٹین” 1958 میں  نبھانے کا موقع ملا جو ایک ناول سے ماخوز رومانس پر مبنی فلم تھی اس فلم کے دوران انکا فلم کی ہیروُن رومی  شنائڈر کے ساتھ حقیقی زندگی میں زبردست معاشقہ چل پڑا..یہ فلم اس سال فرانسی سنیما کی ساتویں سب سے ہٹ فلم ثابت ہوئ اور یوں وہ ڈاریکٹرز اور پروڈیوسرز کی نظروں میں آگےُ اپنی دوسری فلم “Women are weak” میں بھی انہیں مرکزی کردار نبھانے کا موقع ملا جو امریکہ میں دیکھے جانے والی انکی پہلی فلم تھی جو بہت بڑی سپرہٹ ثابت ہوئ  اسی فلم میں انکی اداکاری کو دیکھتے ہوےُ اس وقت کے معروف ڈاریکٹر Rene Clement نے انہیں اپنی فلم “پرپل نون” 1960 میں کاسٹ کیا جس سے انہیں عالمی سطع پر شہرت اور کامیابی نصیب ہوئ. یوں محض پچیس سال کی عمر میں انکا شمار یورپ کے ممتاز فلم اداکاروں میں ہونے لگا…یہ فلم 1990 میں ہولی وڈ نے بھی بنائ اور انکا نبھایا ٹام رپلی کا کردار ہولی وڈ کے نامور اداکار میٹ ڈیمن نے نبھایا مگر وہ اپنی اداکاری سے وہ تاثر قائم نہ کر سکے جو انہوں نے تیس سال قبل اپنی پرفارمنس سے چھوڑا تھا اور جو لوگوں کے ذہنوں میں آج بھی تازہ ہے…1961 میں انہوں نے اداکارہ رومی شنائڈر کے ساتھ اپنا پہلا ٹھیٹر ڈیبیو بھی کیا جس نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے ٹھیٹر کے بارے میں انکا کہنا تھا کہ انہوں نے اداکاری کی اونچ نیچ ٹھیٹر سے ہی سیکھی کہ سٹیج پر کیسے چلنا ہے کیسے بولنا ہے وغیرہ…انکا نام ہولی وڈ فلم “لارنس آف عریبیہ” کے مرکزی کردار کیلےُ بھی لیا جاتا رہا مگر وہ سیون آرٹس سٹوڈیو کے ساتھ چار سالہ فلمی معاہدہ کر چکے تھے لہذا وہ اس فلم میں جلوہ گر نہ ہو سکے تاہم جو معاہدہ انہوں نے سیون آرٹس کے ساتھ کیا ان میں سے کوئ بھی منصوبہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا…انہوں نے ہولی وڈ فلم سٹوڈیو ایم جی ایم کے ساتھ چھ فلموں کا معاہدہ کیا جن میں سے  Any number can win (1963) پہلی فلم تھی جو بلاک بسٹر ثابت ہوئ اسی سال انکی دوسری فلم The leopard نے انکی عزت اور شہرت کو مذید نیک نامی بخشی اس فلم کو امریکہ کے بےشمار سنیما گھروں میں دیکھا گیا اور یہ فلم اس سال کی ساتویں سب سے بہترین  فلم تھی جبکہ پہلی  فلم چھٹے نمبر پر براجمان تھی تیسری فلم Black Tulip نے انہیں شہرت اور عزت کی مذید بلندیوں پہ پہنچادیا اب انکا نام فرانس اور پورے یورپ سمیت امریکہ میں بھی پہچانا جانے لگا چوتھی فلم Joy House میں انہوں نے اپنے وقت کی کامیاب اداکارہ جین فونڈہ کے ساتھ کام کیا جسے Rene Clement  نے ڈاریکٹ کیا تھا گو کہ فلم گزشتہ فلموں کی طرح کامیاب تو نہ ہو سکی مگر اس سے انکے کرئیر پر کوئ اثر نہیں پڑا وہ اب اپنے کرئیر کے اس عروج پر تھے کہ ایک دو کم درجے کی فلم سے انہیں کوئ فرق نہیں پڑتا تھا انکی فلموں کو بیک وقت فرانسی انگریزی اور اطالوی زبان میں دیکھا جاتا تھا اس میں کوئ شک نہیں کے وہ اپنے دور کے فرانس کے فلمی بادشاہ تھے اور جو عزت اور شہرت انہوں نے اپنے دور میں کمائ وہ آج تک کسی اور کو نہ مل سکی وہ جاپان میں بھی خاصے مقبول تھے مگر امریکہ میں زیادہ ترقی نہ کرسکے اسکی وجہ ان فلموں کا ڈھیلا اسکرپٹ تھا. انکی پانچھویں فلم Yellow rolls royce بھی ہٹ رہی مگر اس میں انہیں خود کو منوانے کا زیادہ موقع نہ مل سکا چھٹی فلم Once a thief تھی جس میں انہوں نے این مارگریٹ کے ساتھ کام کیا مگر یہ فلم نہ چل سکی…بلاآخر ہولی وڈ میں چھ فلمیں کرنے کے بعد وہ واپس فرانس آگےُ اور انہوں نے فلم The last adventure بنائ جو ساٹھ کی دہائ کی انکی کامیاب فلموں میں شمار کی جاتی ہے مگر یہ فلم امریکہ میں کامیاب نہ ہوسکی انہوں نے کوشش جاری رکھی اور ایک اور انگریزی فلم The girl on a motorcycle میں کام کیا جو حیرت انگیز طور پر برطانوی سنیما میں بلاک بسٹر ثابت ہوئ…انہوں نے کولمبیا فلم سٹوڈیو کے ساتھ بھی معاہدہ کیا جنہوں نے انہیں لیکر فلم (Lost command (1966 بنائ جو اس وقت کی بڑے بجٹ کی فلم تھی یہ فلم بھی زبردست رہی…انہوں نے یونیورسل فلم والوں کے ساتھ ایک فلم Is Paris Burning بنائ جو کہ فرانس میں تو بےحد کامیاب رہی مگر بد قسمتی سے امریکہ میں نہ چل سکی…اسکے علاوہ انکی نمایاں فلموں میںRocco and his brothers (1960), L’Eclisse (1962), Le  Samourai (1967), اور La Piscine (1969) قابلِ ذکر ہیں
 اپنے کریئر کے عروج پر انہوں نے نامی گرامی ڈاریکٹرز کے ساتھ کام کیا اور متعد ایوارڈز اپنے نام کےُ. 25 ستمبر 1999 کو انہوں نے سوٹزرلینڈ کی شہریت اختیار کر لی جسکے بعد انہوں نے اداکاری کی دنیا کو خیرآباد کہ دیا تاہم وہ مہمان اداکار کے طور پر فلموں میں جلوہ گر ہوتے رہے 2012 کے بعد سے انکی کوئ فلم نہیں آئ اور آج کل وہ اپنی زندگی کا آخری حصہ اپنے دو چھوٹوں بچوں کے ساتھ سوٹزرلینڈ میں گزار رہے ہیں…جوانی کے دور میں انکے حسن کو کوئ مات نہیں دے سکتا تھا وہ بےحد خوبصورت و خوبرو اور وجہیہ نوجوان تھے کہ انکے پاےُ کا کوئ ہولی وڈ فنکار بھی ایسا نہیں تھا جو خوبصورتی کے اعتبار سے انکا مقابلہ کرتا…سمندر کے نیلگوں پانی کے جیسی نیلی شفاف آنکھیں جن میں بےپناہ گہرائ تھی, تیکھے نقوش,یاقوتی ہونٹ, دراز قد,چھریرا بدن اور انگلیوں میں دبا سگریٹ یہ سب مل کر  انکی مردانہ وجاہت کو چار چاند لگاتے تھے وہ دنیا کے کسی بھی سنیما کے ہیرو سے آج بھی سب سے زیادہ خوبصورت مرد تصور کیےُ جاتے ہیں جنہیں دیکھ کر یہی گماں گزرتا ہے کہ بنانے والے نے انہیں فرصت سے بنایا ہے انکے جیسی خوبصرتی کا حامل نہ کوئ آیا ہے نہ ہی کبھی آےُ گا مگر انہوں نے صرف اپنی خوبصرتی کے بل پر ہی شہرت و مقبولیت حاصل نہیں کی ان سب کیلےُ انہوں نے بہت محنت کی ہے اور ہر فلم میں مختلف نوعیت کے کردار نبھا کر انہوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف خوبصورت ہیں بلکہ باصلاحیت بھی ہیں جو ہر کردار میں خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اپنے نبھاےُ ہر کردار میں وہ انگوٹھی میں نگینے کی طرح فٹ بیٹھے ہیں…پیرس کی گلیوں کا ایک عام سا نوجوان جس نے کہیں سے اداکاری نہیں سیکھی اس نے خود کو منجھے ہوےُ اداکار کے طور پر منوایا جسکا نام آج بھی زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا انہوں نے سنجیدہ کرداروں سے لیکر مزاحیہ کرداروں تک اور ایکشن فلموں میں کام کر کے اپنے آپکو صحیح معنوں میں ورسٹائل اداکار ثابت کیا…انکی بےپناہ مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ بہت سی مصنوعات انکے نام سے بنائ جاتی ہیں جیسے کہ سن گلاسز, پرفیوم, گھڑیاں, سگریٹس کپڑے وغیرہ.انکی سن گلاسز کا برانڈ ہانگ کانگ میں خاصا مقبول ہوا جب اداکار  Chow-Yun-Fat نے انہیں اپنی ایک فلم میں پہنا جس سے انکی فروخت میں بہت مدد ملی اور ایسا کرنے پر انہوں نے جواب میں انکے نام شکریہ کا خط بھی لکھا…ہولی وڈ کے مایا ناز ڈاریکٹر John woo جو اپنی ایکشن فلموں کی وجہ سے خوب جانے جاتے ہیں سر ایلن کو اپنا آیئڈل مانتے ہیں…معروف گلوکارہ میڈونا نے اپنا گانا “بیوٹیفل کلر” خاص انہیں خراجِ تحسین پیش کرنے کیلےُ بنایا اور تو اور معروف برانڈ “کرسچن ڈیور” نے انکی جوانی کی فلموں اور تصویروں کو ملا کر اپنے پرفیوم کا اشتہار بھی کیا..
ہر اداکار کی طرح انکےبھی معاشقے خبروں کی زینت بنتے رہے انکی طبیعت میں لاابالی اور لاپروا پن تو شروع سے ہی تھا اوپر سے بہت زیادہ حسن اور شہرت نے انہیں مغرور اور دل پھینک بنا دیا تھا لیکن ان سب کے باوجود کسی بھی عورت کیلےُ انکا ساتھ خوش قسمتی سے کم نہیں تھا.انکی زندگی کا سب سے بڑا معاشقہ اداکارہ رومی شینائڈر کے ساتھ سامنے آیا جنہیں وہ اپنی زندگی کا پہلا اور سچا پیار قرار دیتے ہیں دونوں کی ملاقات کرسٹین 1958 کے سیٹ پر ہوئ جو محبت کا روپ دھار گئ اور دونوں نے منگنی کرلی.یہ جوڑا فرانسی سنیما کا سب سے حسین جوڑا کہلاتا تھا مگر پھر بھی انہوں نے آپس میں زیادہ فلمیں نہیں کیں انکی منگنی کے دوران انکا معاشقہ ایک جرمن اداکارہ نینو کے ساتھ سامنے آیا جس نے 1962 میں  انکے ایک بیٹے کو جنم دیا جس نے زیادہ تر انکے والدین کے ہاں پرورش پائ  جسکے بعد 1963 کو دونوں نے باہمی رضامندی سے منگنی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا…اگست 1964 کو انہوں نے نتالی بارتھ لمی سے پہلی  شادی کی جو شادی کے بعد نتالی ڈیلن کہلایئں جن سے انکا ایک بیٹا انتھونی ڈیلن ہے جو کہ اسی سال ستمبر میں پیدا ہوا یہ جوڑا اس وقت کا حسین ترین جوڑا تھا اور نتالی ڈیلن اس وقت دنیا کی حسین ترین عورت مانی جاتی تھی کہتے ہیں حسن ہی حسن پر فدا ہوتا ہے مگر شہزادہ اور شہزادی کے جیسی لگتی اس محبت کا انجام اچھا نہیں ہوا سر ڈیلن نے 1967 کو طلاق کیلےُ عدالت میں درخواست دائر کر دی مگر دونوں کافی لمبے عرصے تک ایک ہی چھت کے نیچے رہتے رہے بلاآخر 1969 کو دونوں کے بیچ قانونی طور پر طلاق ہوگئ 1968 کو فلم “جیف” کے سیٹ پر انکی ملاقات فرانسی اداکارہ میریلی ڈارک سے ہوئ جنکے بارے میں ایلن کہتے تھے کہ وہ انکے جسم کا آدھا حصہ تھیں یہ رشتہ پندرہ سال چلنے کے بعد 1982  کو ختم ہوگیا پانچھ سال بعد  1987 کو انہوں نے اپنی خوبصورت آواز میں ایک فرانسی گانا ریکارڈ کروایا جسکی میوزک وڈیو کے سیٹ پر انکی ملاقات ڈیچ ماڈل روزلی وان بریمن سے ہوئ جن سے انکی ایک بیٹی اینوچکا 1990 اور بیٹا ایلن فیبئون 1994 کو پیدا ہوےُ مگر پندرہ سال چلنے والی  یہ محبت بھی سرد پڑگئ اور اکتوبر 2002 کو دونوں نے اپنے راستے جدا کر لےُ آج انکی عمر 81 سال ہے مگر انکی صحت ابھی بھی قابلِ رشک اور ہشاش بشاش ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انکی خوبصورتی میں نمایاں تبدیلی آئ ہے.ایک زمانے میں روےُ زمین پر جس چہرے جیسا کوئ چہرہ نہیں تھا آج اس چہرے پر بڑھاپے کی چادر لپٹی پڑی ہے مگر انکی شخصیحت میں وہی نکھار وہی کشش اور روب و دبدبہ آج بھی موجود ہے جو دیکھنے والوں کو اپنی جانب کھینچ لیتی ہے جوانی کے دور میں وہ قدرت کا وہ شہکار تھے جسے نظرانداز کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا قدرت نے انہیں فراوانی سے حسن دیا تھا اورجب وہ اپنے حسین چہرے کے ساتھ سنیما کی سکرین پر جلوہ گر ہوتے تھے تو لوگوں کی ایک بڑی تعداد انکی دیوانی ہوجاتی تھی انکے چہرے کے اتار چرھاوُ اور اپنی بھاری آواز میں لفظوں کی ادائگی نے آج بھی دیکھنے والوں کو اپنا دیوانہ بنا رکھا ہے ایسا حسن,ایسی شہرت ایسی عزت بھی قدرت کسی کسی کو دیتی ہے اور ایلن ڈیلن جیسے لوگ بھی روز روز نہیں صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں کسی شاعر نے یہ الفاظ بھی یقیناً انہیں کو دیکھ کر لکھے ہونگے
اسکی خوبصورتی کو میرے الفاظ چھو نہیں سکتے
بس اتنا سنو کہ ہجومِ حسن میں میرا یار نواب لگتا ہے…!!!

Sharing is caring!

Facebook Comments

Tags

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close